نواز شریف کے نام
Poet: Aamir Shaam Wahid By: Aamir Shaam Wahid, Harappa, Sahiwalہے گنگا جل کا کھیل رچا کب دُھوپ نہیں برسات نہیں
جب ہجر کا چرخہ کات چُکے کیوں وصل کے امکانات نہیں
ہم ننگیء داماں دیکھ چکے ہم تنگیء دوراں دیکھ چُکے
بے خوف و خطر اب جیتے ہیں‘ گو جینے کے حالات نہیں
وہ صبح جو آنے والی ہے‘ وہ صبح بلآخر آئے گی
یہ رات جو ہم پر چھائی ہے یہ رات تو کوئی رات نہیں
وہ شاخ بدن ہر وقت کبھی پھولوں سے لدی جو رہتی تھی
وہ شاخ بدن یوں اُجڑی کہ اک بھی تو سلامت پات نہیں
اک عمر سے کیوں کر لگتا ہے وہ شخص ہے میرے ساتھ کہ جو
اک عمر سے مجھ کو چھوڑ گیا اک عمر سے میرے ساتھ نہیں
کچھ تمہی بتاؤ اے لوگو! اس شہر میں کیا؟ سچ بات کہیں ؟
جہاں جھوٹ کا حاکم حاکم ہے‘ جہاں کچھ پاس جزبات نہیں
ہر صحن انوکھا ماتم ہے ہر آنکھ تماشے سے نم ہے
یہ لوگ یونہی مر جائیں گے گر بدلے کچھ حالات نہیں
یہ جسم سہی بے مول سجن یہ جان تو ہے انمول سجن
جب شام نہیں ہے ساتھ تو پھر تیری بھی کوئی اوقات نہیں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






