نَذرِ فراز
Poet: سُلطان سَکون By: Yasir Malik, Karachiجو بظاہر تھا بہت پیار جتانے والا
وہ بھی نِکلا نہ مگر ساتھ نِبھانے والا
اِس قدر لوگ ہیں مصروف دُکھوں مِیں اپنے
کوئی مِلتا نہیں اب......دِل بھی دُکھانے والا
تھا تو بے مہر پر ایسا بھی نہیں تھا پہلے
بِیچ مِیں ہے کوئی دیوار اُٹھانے والا
کاٹ لے جائے گا پَت جھڑ مِیں تِری شاخیں بھی
تَپتے موسم مِیں تِری چھاؤں مِیں آنے والا
ہم وہ خُوش فہم کہ اب بھی یہ سمجھتے ہیں
دوست ہوتا ہے ........ہر اِک ہاتھ مِلانے والا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






