نگاہوں سے نگاہوں کا کلام ہوتا ہے
Poet: شفق By: Shafaq, Lahoreمدت ہوی ہم ان سے ہم کلام نہیں ہوئے
پھر بھی ایک دوسرے سے لاتعلق نہیں ہوئے
محفل میں ان کی آج بھی ہمارا ذکر ہوتا ہے
نام لے کر ہمارا آج بھی ان کا مسکرانا ہوتا ہے
خاموشی سے گزر جاتے ہیں ہم
اگر راہ میں سامنا ہو جائے
مگر نگاہوں سے نگاہوں کا سلام ہوتا ہے
کیا ہوا جو ایک نہ ہو سکے ہم
عشق میں تعلق روح سے ہے
جسموں کا کہاں سوال ہوتا ہے
ہے وہ کسی اور کا مگر دل اب بھی میرا ہے
جب پیار سے دیکھتا ہے مجھے
تو اس بات کا احساس ہوتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







