نہیں رسوائیوں میں کب تمھارا نام لیتا تھا ہم اپنے سر محبت میں ہر ایک الزام پڑتا تھا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیانہیں رسوائیوں میں کب تمھارا نام لیتا تھا
ہم اپنے سر محبت میں ہر ایک الزام پڑتا تھا
یہ جگنو جب لٹائیں روشنی تاریک راہوں میں
اجالے چھوڑ کر اپنے انھیں سب تھام دیتا تھا
تصور میں تمھارے ہم نے دیکھا ہے گلابوں کو
کہیں ہو ذکر پھولوں کا تمھارا نام لکھتا تھا
زباں سے کہہ نہ پائے تم تو کوئی بات دل والی
چلو ان بولتی آنکھوں سے کچھ پیغام ملتا تھا
قیامت کو حسیں پاتے ہیں ان کو دیکھ کر اکثر
وہ زلفوں کو بکھیریں ہم جگر کو تھام لیتا تھا
اگرچہ وصل کی گھڑیوں کی حسرت ہے مری محبوب
جنوں اور عشق میں بھی ضبط سے وہ کام کرتا تھا
فقط عاشق ہی رو رو کے خدا کا نام لیتے ہیں
کوئی یوں یاد کرتا ہے نہ اشکوں کو بہاتا تھا
ہوئے رنجور تو شعروں میں خود کو کھو دیا وشمہ
غموں سے لوگ گھبرا کر تو اکثر جام پیتا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






