نہیں موجود
Poet: Ghulam Mujtaba Haashmi Yaasir Al Barkaati By: Ghulam Mujtaba Haashmi Yaasir Al Barkaati, Hyderabad, Pakistanتجھ سا کب دوسرا نہیں موجود
دل میں اب حوصلہ نہیں موجود
بات ایسی ہو کیوں مرے لب پر
جس میں تیری رضا نہیں موجود
تونے یکسر بھلادیا مجھ کو
وہ جو احساس تھا، نہیں موجود
ظلم بے فکر ہو کے ڈھاتے ہو
دل میں خوفِ خدا نہیں موجود
ناؤ لہروں کو سونپ دوں کیونکر
کیا کوئی ناخدا نہیں موجود
بھول بیٹھا ہوں راستہ گھر کا
تجھ سا اب رہنما نہیں موجود
ایک تجھ کو ہی رب سے مانگا ہے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں موجود
دل میں یاسر کے دیکھ لے آکر
کچھ بھی تیرے سوا نہیں موجود
(معروف شاعرہ محترمہ رضوانہ سعید روز صاحبہ کے ردیف “نہیں موجود“ پر طرح آزمائی کی کوشش کی ہے)
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






