نہ ایسے پیار سے دیکھو خدارا
Poet: اےبی شہزاد By: AB shahzad, Mailsiنہ ایسے پیار سے دیکھو خدارا
مرے بارے ذرا سوچو خدارا
خموشی مار ڈالے گی تمھاری
ذرا سا کچھ نہ کچھ بولو خدارا
پڑھائی میں نہیں ملنے لگا کچھ
ہنر کوئی ابھی سیکھو خدارا
تمھارے بن مرا کوئی نہیں ہے
نہ ایسے جھوٹ تم بولو خدارا
وہاں سے واپسی ممکن نہیں ہے
مجھے روکو مجھے روکو خدارا
تمھارے بن نہیں جی پاؤں گا میں
نہ تنہائی میں یوں رولو خدا را
تمھارے لیے مخلص ہی ہوں میں
مجھے ایسے نہ تم ٹوکو خدارا
نہیں ہوں بے وفا شہزاد سن لو
نہ ایسے پیار کو تولو خدارا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






