نہ جانے اشک کیوں
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, walesحسیں اک شام کے لمحے سجائے تھے کبھی اُس نے
عجب سے حشر کے منظر بنائے تھے کبھی اُس نے
وہ اس کا نرم سا لہجہ وہ کچھ دیدار کی شبنم
نظر کی آگ سے تن من جلائے تھے کبھی اُس نے
ابھی بھی یاد ہے اس کی نظر کا میکدہ مجھ کو
غضب کی پیاس تھی ساغر پلائے تھے کبھی اُس نے
گلابی رنگ تھا پلکوں کی جھالر سے جھلکتا سا
نہ جانے اشک کیوں مجھ سے چھپائے تھے کبھی اُس نے
یقیں کی شمع ایسے جلتی رہتی ہے میرے دل میں
چراغِ عشق جیسے جلائے تھے کبھی اُس نے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







