نہ رکھو گے یاد ہپیں تم، نہ یاد کبھی تم آؤ گے
Poet: Muhammad Shariq By: Muhammad Shariq, Karachiنہ رکھو گے یاد ہپیں تم، نہ یاد کبھی تم آؤ گے
کب تک ہم سے تم نہلو گے، کب تک ہیمں بہلاؤ گے
اپنی ذات میں گم ہوجاؤ، اپنی ذات سے جی بہلاؤ
اک روز ہمیں تم یاد کرو گے اور ہمیں نہ پاؤ گے
عشق، محبت، پیار، وفا یہ سب فرصی باتیں ہیں
کب تک ان سے بہل نہل کے دھوکے کھاتے جاؤ گے
جاتے ہوئے آنے کا کہو، آتے ہی جانے ک کہو
یوں نھی ہمیں بھلاتے ہو، یوں بھی ہمیں بھلاؤ گے
ان سے اور وفا کا خیال، بہت عجب ہے تمھارا حال
کب تک خود کو دحوکہ دو گے، زیست نباہتے جاؤ گے
جن کی سرشت خونمائ، جن کی گٹھی میں بے وفائ
ان سے جی کو لگا کر جانو، جی کو روگ لگاؤ گے
روز کا شارق قصہ ہے یہ، زندگی کا حصہ ہے یہ
لوگ انا کے قیدی سارے، لوگوں سے کیا پاؤ گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






