نہ ملی غم یار سے فرصت
Poet: Khalid Pervez By: Khalid Pervez, Sialkotپیتے پیتے مر گئے نہ ملی غم یار سے فرصت
رہا پھر بھی دل میں نہ ملی مجھے پیار سے فرصت
عہدِ الفت توڑ نہیں یہ ہے کورا ظرف ہمدم
میں نے روکا تو اُسے نہ ملی انکار سے فرصت
رنگ آج بھی ہیں ہر سو بہاروں کے دلکش
گلِ جستجو تھی کہ نہ ملی مجھے خار سے فرصت
لوگو نہ ماتم کرو دلِ آنگن میں نہیں ویرانہ
مجھ کو تو ملی ہی نہیں انتظار سے فرصت
میری ولایت پہ گماں ہے میری تربت کو خالد
میری چاہتوں میں کمی نہ ملی پیار سے فرصت
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






