نہ پھر کسی کو آزما سکے گا
Poet: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, فیصل آبادساعتوں میں مجھے گنوا کر عمر بھر نہ پا سکے گا
آزما کے آج مجھے نہ پھر کسی کو آزما سکے گا
لوٹ آۓ گا ایک دن، کسی ہارے مسافر کی طرح
بے وفائی کا بوجھ وہ کب تک بھلا اٹھا سکے گا
بیتاب اشکوں کی قیمت جان لے گا ایک دن وہ
بدلتے موسم دیکھ کر نہ اشک اپنے چھپا سکے گا
کون جانے محبتوں کے پیجیدہ رستوں پہ چل کر
ذرا سنبھل کر یہ دل مجھے پھر کبھی منا سکے گا
چلا ہے بھلا کے محبتوں کو، طالب نگاہوں کی چاہتوں کو
مقبول لمحوں میں کبھی وہ نہ عنبر مجھے بھلا سکے گا
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






