خواهش ناتمام

Poet: عرشیه هاشمی By: عرشیه هاشمی, Azad kashmir

مجهے هر حد سے آگے بڑھ که تتلی کو پکڑنا هے
.ستاروں کو بلا کر چاند کو بهی تنگ کرنا هے

مجهے خابوں میں سوتے آسماں کے کان میں جا کر
بڑی هی خامشی سے کوئ ننهی بات کرنی هے

اداسی شام کی گھری سی لالی میں جو ڈوبی هے
چهڑی جادوئ اک لے کر اداسی دور کرنا هے

ابهی تو سرخ تتلی نے گلوں سے بات کرنی هے
هوا نے باندھ کر پلو سے خوشبو کو اڑانا هے

ابهی عرشی نے بارش سے دیالو لفظ لکھنے هیں
ابهی خوشبو کے پیکر میں ڈهلی کچھ نظمیں لکھنی هیں

یه عرشی کی سزا هے کیوں یه دیکهے خواب هیں اس نے
قضا نے بند کرنے هیں جو کهولے باب هیں اس نے

Rate it:
Views: 565
18 Sep, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL