نہ ہوش ہے نہ خبر ہے
Poet: Imran Ahmed Khan By: Imran Ahmed Khan, pakistanنہ ہوش ہے نہ خبر ہے
تجھ سے ملنے کے بعد
نہ تیرا پتہ ہے نہ خبر
تجھے دیکھنے کے بعد
تو ملے گی یا نہیں یہ کون جانتا ہے
دیکھیں گے رب سے دعا مانگنے کے بعد
دل کہتا ہے تو آئے گی زندگی بن کے
زندگی کو ملیں گے تجھ سے ملنے کے بعد
اتنی محبت ہوگی ہے تم سے
دیکھیں نہ کسی اور کو تم سے ملنے کے بعد
یہ راز محبت کا نہ بتائیں گے کسی کو
اتنا پیار ہے تم سے ملنے کے بعد
برداشت نہ کرسکیں گے تجھ سے دوری
نہ دور جانا ملنے کے بعد
مجھے اپنی زندگی بنا کے رکھنا
پیار کرنے کے بعد
اتنا پیار کرنا پیار کرنے کے بعد
بھول جائیں خود کو پیار کرنے کے بعد
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







