نیند بھی تیرے بنا اب تو سزا لگتی ہے
Poet: مرتضیٰ برلاس By: Faizan, Faizabadنیند بھی تیرے بنا اب تو سزا لگتی ہے
چونک پڑتا ہوں اگر آنکھ ذرا لگتی ہے
فاصلہ قرب بنا قرب بھی ایسا کہ مجھے
دل کی دھڑکن ترے قدموں کی صدا لگتی ہے
دشمن جاں ہی سہی دوست سمجھتا ہوں اسے
بد دعا جس کی مجھے بن کے دعا لگتی ہے
خود اگر نام لوں تیرا تو لرزتا ہے بدن
غیر گر بات کرے چوٹ سوا لگتی ہے
ایسے محبس میں جنم اپنا ہوا ہے کہ مجھے
ہر دریچے سے بڑی سرد ہوا لگتی ہے
طنز آمیز نہیں ہے مرا انداز سخن
تلخ بے شک ہے مگر بات جدا لگتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







