نی چل نیٹ کنارے ملدے آں
Poet: AzharM By: AzharM, Dohaنی چل نیٹ کنارے ملدے آں
نی چل نیٹ کنارے ملدے آں
اسی چنگے دوؤیں دل دے آں
نی چل نیٹ کنارے ملدے آں
اجے باہر کۤجھ پابندی اے
اجے رُت ملنے دی مندی اے
اجے دنیا کافی گندی اے
اسی پھُلاں وانگوں کھڑدے آں
نی چل نیٹ کنارے ملدے آں
جتھے چاند ستارے ملدے نے
جتھے دُنیا مارے ملدے نے
جتھے ہنس کے سارے ملدے نے
اسی دُنیا نالے بھڑدے آں
نی چل نیٹ کنارے ملدے آں
کوئی بوتھے نالے ٹوکے گا
کوئی ہتھاں نالے روکے گا
کوئی کُتے وانگو بھوکے گا
اناں کُتیاں اُتے پلدے آں
نی چل نیٹ کنارے ملدے آں
اسی سگنل ٹپ کے تندے آں
اسی رسماں شسماں پندے آں
اسی دل پاغل دی مندے آں
کسے بندھن دے وچ سلدے آں
نی چل نیٹ کنارے ملدے آں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






