جو بھی چاہے کہیں تنقید میں حاسد میری
چاہنے والی تجھے ذات ہے واحد میری
نام و عزت رہی جب تک رہے میخانے میں
وجہ رسوائ بنی صحبت زاہد میر ی
اٹھے دیوانگئی عشق پہ جب میری سوا ل
بن گئی چاک گریبانی ہی شاہد میر ی
سجدے ناقص سہی ہیں اس کی رضا کی خاطر
عیب مت ڈھونڈ نمازوں میں تو زاہد مری
ڈھونڈھے ہیں عیب فقط ہے یہ الگ بات مگر
غزلیں سنجید گی سے پڑھتے ہیں ناقد میری
اب حسن چاہ کے بھی کر نہیں سکتا میں گریز
ساری ہی شرطیں ہیں یہ کی ہوئی عائد میری