وحشت زدہ میخانے
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, Karachiاجڑی ہوئی شاموں کے وحشت زدہ میخانے
ٹکڑوں میں پڑے دیکھے دہشت زدہ پیمانے
موسم کے بدلتے ہی ہر چیز نے رنگ بدلا
اپنے بھی ہوئے سارے نفرت زدہ بیگانے
آ تجھ کو دکھاؤں میں ماضی کے جھروکوں سے
لیلیٰ کی محبت میں مجنوں سے وہ دیوانے
یاں دل میں کدورت ہے، ذہنوں میں عداوت ہے
اب کون سنے مجھ سے یہ پیار کے افسانے
کیا میرے مقدر میں یہ قید ہی لکھی ہے
تاریک، گھٹن، بدبو، سیلن زدہ تہہ خانے
اسکو تو ابھی میں نے تنبیہہ بھی نہیں کی تھی
پہلے ہی لگا مجھ پر غصے سے وہ غرانے
اقرار ہے پوشیدہ انکا ر کے لفظوں میں
رشوت کو وہ لیتا ہے انداز بہ نذرانے
اک بار محبت سے شمع جو کہا اس کو
اترا کے وہ یہ بولا جل جا میرے پروانے
دامن بھی نہیں پکڑا آنچل بھی نہیں کھینچا
بڑھتے جو مجھے دیکھا وہ لگ پڑے شرمانے
چکرا کے وہ گرتے تھے تھاما جو انہیں بڑھکر
آکر میری بانہوں میں آنچل لگے لہرانے
بھولے سے خلا ف اسکے اک شعر جو لکھا تھا
بھرنے ہی پڑے اشہر اسکے مجھے ہرجانے
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






