وحشت زدہ میخانے
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, Karachiاجڑی ہوئی شاموں کے وحشت زدہ میخانے
ٹکڑوں میں پڑے دیکھے دہشت زدہ پیمانے
موسم کے بدلتے ہی ہر چیز نے رنگ بدلا
اپنے بھی ہوئے سارے نفرت زدہ بیگانے
آ تجھ کو دکھاؤں میں ماضی کے جھروکوں سے
لیلیٰ کی محبت میں مجنوں سے وہ دیوانے
یاں دل میں کدورت ہے، ذہنوں میں عداوت ہے
اب کون سنے مجھ سے یہ پیار کے افسانے
کیا میرے مقدر میں یہ قید ہی لکھی ہے
تاریک، گھٹن، بدبو، سیلن زدہ تہہ خانے
اسکو تو ابھی میں نے تنبیہہ بھی نہیں کی تھی
پہلے ہی لگا مجھ پر غصے سے وہ غرانے
اقرار ہے پوشیدہ انکا ر کے لفظوں میں
رشوت کو وہ لیتا ہے انداز بہ نذرانے
اک بار محبت سے شمع جو کہا اس کو
اترا کے وہ یہ بولا جل جا میرے پروانے
دامن بھی نہیں پکڑا آنچل بھی نہیں کھینچا
بڑھتے جو مجھے دیکھا وہ لگ پڑے شرمانے
چکرا کے وہ گرتے تھے تھاما جو انہیں بڑھکر
آکر میری بانہوں میں آنچل لگے لہرانے
بھولے سے خلا ف اسکے اک شعر جو لکھا تھا
بھرنے ہی پڑے اشہر اسکے مجھے ہرجانے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






