وصل شب
Poet: Saeed Akhter Rahi By: Saeed Akhter Rahi, karachiجو چوٹ لگی ہے مجھے تیری ٹھوکر تو نہیں
میں سنگ میل ہوں راستے کا پتھر تو نہیں
میں اٹھا کر تجھے لے آیا گھنے جنگل میں
اور پوچھا تھا اب کسی کا ڈر تو نہیں
وہ میری بانہوں کے گھیرے س نکل کر بولی
جان یہ جنگل ہے ہمارا گھر تو نہیں
رات آئی تو تاروں نے بھی جھانک لیا
پھر کانا پھوسی کیا اسکی یہ عمر تو نہیں
پھر جھیل کی سطح سے ہمیں جھانکنے لگے
تم نے پتھر اٹھا کر کہا یہ رہگزر تو نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






