وصل شب
Poet: Saba Komal By: Saba Komal, Al-Khobar K.S.Aوصل شب کی چاپ میں رکھ لو تم میرا بھرم
کوچہ شیشہ گراں میں کیسی حیا کیسی شرم
محو گفتگو ہوئے وہ کچھ اس طرح ہم سے
انکی ادائے ناز ٹہری اور میری جاں پے ہیں ستم
حسرت ناکام پے کیسا ضبط اور کیوں ہو صبر
جل تھل ہوتے زخم ہیں اور خوف کے ہیں پیچو خم
وعدہ شب کے ہر پہر میں معجزے کی ہے امید
رت جگا شیوہ میرا اور بے رخی تیرا کرم
خود نمائی کے معیار اور تہمتوں کے ہیں سخن
خواب فروشوں کی گلی میں بے وفاؤں کے حرم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







