وصل کی شام جو دو پل گزارے تیری آنکھوں میں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillچھپے بیٹھے ہیں محشر کے اشارے تیری آنکھوں میں
گنوا بیٹھیں گے دل وحشت کے مارے تیری آنکھوں میں
یقینا رک گئے ہوں گے سمے کا غم مٹانے کو
کسی جنت کے درماندہ ستارے تییری آنکھوں میں
تمہارے حسن میں شامل ہے میرے بیقراری بھی
کہ میں نے سب حسیں جذبے اتارے تیری آنکھوں میں
جہاں پر ہر گھڑی مسکان کی رم جھم برستی تھی
میں اب بھی ڈھونڈتا ہوں وہ نظارے تیری آنکھوں میں
زمانہ زندگانی کے مطالب دیکھنے بھا گا
میرے الفاظ نے معنی ابھارے تیری آنکھوں میں
میری سانسوں کی حدت نے میری چاہت نے دیکھے ہیں
میری وحشت نے دیکھے ہیں سہارے تیری آنکھوں میں
وہی سرمایہ تو ابتک اٹھائے پھر رہی ہے روح
وصل کی شام جو دو پل گزارے تیری آنکھوں میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






