وفا اتنی سزا اتنی ذرا بھی کم نہیں ہوتی
Poet: محمد عبدﷲ By: محمد عبدﷲ, Multanوفا اتنی سزا اتنی ذرا بھی کم نہیں ہوتی
بلانے کی صداؤں میں دعا بھی کم نہیں ہوتی
آستاں سے بچھڑ کے تیرے
پھر مہک ساتھ لے کے چلتے ہیں
جان اس طرح سے نکلتی ہے
دن تری آرزو میں کٹتے ہیں
ہیں اذیت بھری ملاقاتیں
خواب میں تم کو دیکھ لیتے ہیں
آج بھی تُجھ کو یاد کرتے ہیں
جب گلی سے تری گزرتے ہیں
آستاں سے بچھڑ کے تیرے
پھر مہک ساتھ لے کے چلتے ہیں
جان اس طرح سے نکلتی ہے
دن تری آرزو میں کٹتے ہیں
ہیں اذیت بھری ملاقاتیں
خواب میں تم کو دیکھ لیتے ہیں
حال دل کا یہ صرف اتنا ہے
مختصر رات دن تڑپتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






