وفا کرنا وفا پانا
Poet: Haya Ghazal By: Haya Ghazal, Karachiوفا کرنا،وفا پانا
الگ باتیں ہیں یہ دونوں
کبھی جو چھوڑ کے کوئ
کسی انجان رستے پر
روایت توڑ دیتا ہے
محبت میں جدائ کی
ادھوری موت دیتا ہے
وفا کی جستجو لے کر
سسکتی موت دیتا ہے
سلگتی روح ہے اور یہ آنکھیں برستی ہیں
چھپانے کے لیئے درد
لبوں پر لے کے کھوکھلی مسکراہٹ
زمانے سے الگ
یادوں کی کوئ محفل سجاتا ہے
بکھرنے ٹوٹنے کا اک سلسلہ
چلتا ہی رہتا ہے
اور کبھی جب چھوڑنے والا
پلٹ آئے اچانک تو
یہ سارے درد
یہ اذیت بھرے لمحے
اسے تحفے میں دے دینا
کہ اب باری ہے اس کی
محبت میں جدائ کی
ادھوری موت پانے کی
وفا کا نام مت لینا
کبھی بھولے سے کہ جاناں
جفاؤں کا زمانہ ہے
وفا اک خواب ہے
گذرے ہوئے کل کا قصہ ہے
کبھی جیا جو تھا
احساس اب اسکے لیئے ہے وہ
اسے محسوس کرنے دو
اسے بھی کچھ تڑپنے دو
اسے بھی یہ سمجھنا ہے
کہ وفا کرنا وفا پانا
الگ باتیں ہیں یہ دونوں
الگ باتیں ہیں یہ دونوں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






