وفا
Poet: Mansoor Achakzai By: Mansoor Achakzai, Islamabadایک امیر کی بیٹی کو
ایک غریب کے بیٹے سے عشق ہوا
کتنے اچھے اور بڑے رشتے آئے
اس نے سب ٹھکرائے
بنگلہ
اسے لگتا قید کا جنگلہ
کار
اسے لگتی بے کار
وہ تو بس اسی پہ مرتی تھی
اس کی خاطر کچھ بھی کر سکتی تھی
سیلاب تھا آخر رکتا کیسے
عشق تھا آخر چھپتا کیسے
باپ نے لاڈلی کو بلوایا
طرح طرح سے سمجھایا
بیٹی اس کی ذات تو دیکھو
پھر اس کی اوقات تو دیکھو
اتنے بڑے بزنس مینوں کے رشتے آئے
اک گٹھیا لڑکے کی خاطر تم نے سب ٹھکرائے
بیٹی بولی سوری پاپا
آپ کو یہ معیار مبارک
دولت کا انبار مبارک
ہر شے میں بیوپار مبارک
آپ کو کاروبار مبارک
مجھ کو میرا پیار مبارک
آپ ہیں کاروبار کے طالب
میں ہوں سچے پیار کی طالب
یہ کہہ کر اس بیٹی نے باپ کی سب دولت ٹھکرا دی
یوں بھاگ کر باپ کے گھر سے اس لڑکے سے کر لی شادی
واہ رے عورت تیری وفا
لیکن یہ سب اپنی جگہ
مل ہی جایئں گے دونوں یہ
ایسا سب کے علم میں تھا
کیونکہ یہ سب فلم میں تھا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو







