وقتِ دعا جو ہاتھ اٹھا کر گرا دئیے
Poet: Muzammal Mukhtar Azam By: Muzammal Mukhtar Azam, Lahoreوقت دعا جو ہاتھ اٹھا کر گرا دئیے
سر کش ہوا نے مید کے دیے بجھا دئیے
صد شکر اس سحرِ نو خیز کا جس نے
صدیوں کی تیرگی کے قصے مٹا دئیے
واہ رے محبت تیرے جوہر بے مثال
چراغِ آرزوئے سحر پھر سے جلا دئیے
شمعِ فیروزاں کا کیا دوش ہے اس میں
پروانے نے اگر خود ہی پر جلا دئیے
بس بھی کر اے ساقی بہت ہو گیا
ایک جام کہہ کر کتنے پلا دئیے
کوئی راہِ سخن تم بھی نکالو مزمل
ہونٹوں پہ کیوں یہ اپنے قفل لگا دئیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






