وقت ملن رخ پہ ترے جو مسکراہٹ ہوتی ہے
Poet: Tabrez Khan By: Tabrez Khan, Multanوقت ملن رخ پہ ترے جو مسکراہٹ ہوتی ہے
دیکھ کر اسے دور مری میلوں کی تھکاوٹ ہوتی ہے
ملتے ہیں دل جہاں باہم خلوص ہوتا ہے
ٹوٹتے ہیں رشتے جہاں جذبوں میں ملاوٹ ہوتی ہے
رکھا ہے در کھلا کہ شاید تو لوٹ آئے
چونک اٹھتے ہیں ذرا سی جو آہٹ ہوتی ہے
کچھ کمال نہیں مرا اسمیں کسی کی دعا کا اثر ہے
دور مرے رستے سے یہ جو ہر رکاوٹ ہوتی ہے
وہ ساتھ تھا تو زمانے سے بھی پیار تھا ہم کو
تبریز وہ گیا تو خود سے بھی اکتاہٹ ہوتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






