وقت کے کینوس پے اپنی انگلیوں کے ہنر میں دیکھوں
Poet: SHABEEB HASHMI By: SHABEEB HASHMI, ALKHOBAR (KSA)تیرے لہجے میں محبت کا اثر میں دیکھوں
آنکھیں تیری ھوں انسے مگر میں دیکھوں
خوف آتا ھے کہ اب انجام سفر کیا ھو گا
ہر اک دریا میں بے رحم بھنور میں دیکھوں
پھر اسی شور میں جنگل کی طرف چل نکلے
اجڑے موسم میں ہر اک زخمی شجر میں دیکھوں
تھک کر پہنچا ھوں ترے در پہ مگر تو نہ ملا
راہ دشوار پہ اک اور سفر میں دیکھوں
میرے شعروں میں جو بیباکی سی نظر آتی ھے
لرزش ھے قلم میں اک خوف کا نگر میں دیکھوں
نام لکھتے ہیں مٹاتے ہیں بناتے ہیں چہرے
وقت کے کینوس پہ اپنی انگلیوں کے ہنر میں دیکھوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






