وہی خواب مجھ کو ستانے لگے ہیں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillوہ دیوار و در کو سجانے لگے ہیں
نیا حشر شاید اٹھانے لگے ہیں
رکو ایسی جلدی بھی کیا میرے قاتل
ارے آپ سے بھاگ جانے لگے ہیں ؟
جنہیں تیری نیندوں سے ٹالا تھا میں نے
وہی خواب مجھ کو ستانے لگے ہیں
تجھے ایک پل میں یہ کیسے بتا دوں
امیدوں کو بنتے زمانے لگے ہیں
وہ لمحے جو تمہاری یادوں میں بیتے
وہ ماضی کو فردا میں لانے لگے ہیں
میرے سر کے ٹکڑے نہیں ان کا مقصد
وہ دیوار کو آزمانے لگے ہیں
تمنا وفا کی فنا تک تو آئی
چلو کچھ تو جذبے ٹھکانے لگے ہیں
جنہیں گھن سی آتی تھی اہل جنوں سے
وہ آداب الفت سکھانے لگے ہیں
گرے میرے آنسو تو وہ شوخ بولا
شگوفے نئے پھوٹ جانے لگے ہیں
ارے ان کی سرقی کی عادت تو دیکھو
مجھی سے مجھی کو چرانے لگے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






