وہ الہام جو ہتک کرے وہ کام میرے اصلاح میں نہیں
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiوہ الہام جو ہتک کرے وہ کام میرے اصلاح میں نہیں
استدعائیں تو اور بھی ہیں نافرمانی میرے مداح میں نہیں
تیرے مانوس مقدر کی کہیں کوئی وسعت خالی ہے
یہ بخوبی کیسے کہیں کہ خدائی اس خدا میں نہیں
بڑی فراخ ہیں رغبتیں تم انہیں پاکر تو دیکھو
جو خودرو ملن میں ہے وہ ترغیب الوداع میں نہیں
اس آوارگی نے کئی دن باغوں کی باغبانی کی پھر
ایسے پھول چن کر لائی جو پھول اُس ردا میں نہیں
مجھ میں تم بسے تمہارا دامن گیر اور کون ہوگا
تمہیں اجاڑ کر وصال پاؤں یہ صدائیں میری صدا میں نہیں
کہیں عروج کہیں زوال، وقت کی ترغیب ہم کیا کریں
جس کا جیون ان کی آخرت ہم تو ابھی ابتدا میں نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






