وہ اپنی ایک جھلک تو دکھلاتا نھیں ہے
Poet: Kaleem By: Kaleem, Taxilaوہ اپنی ایک جھلک تو دکھلاتا نھیں ہے
اور روتا ہے کہ کلیم ملنے آتا نھیں ہے
کبھی روبرو ہو تواس کی طبیعت ٹھیک کروں
ہر وقت روتا ہے مسکراتا نھیں ہے
ہر بات کا الٹا مطلب نکالتا ہے وہ
اور اس پہ بے شرم شرماتا نھیں ہے
کینڈل لائٹ ڈنر ھو تنھائی ھو
کمبخت ایسی ملاقات کے لیے بلاتا نھیں ہے
اسے کئی بار چاھت سے گلاب بھیجا ہے
وہ ستم ظریف اسے بالوں میں سجاتا نھیں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






