وہ اپنے ساتھ میری پہچان ہی لے گیا
Poet: Arooj Fatima(Lucky) By: Arooj Fatima(Lucky) , K.S.Aجان سے پیارا تھا اک شخص
وہ میری جان ہی لے گیا
پروں تلے زمیں کھنچیی
سر سے آسمان ہی لے گیا
میری ہر ُدعا کو الٹ کر کے
جاتے جاتے میرا احسان ہی لے گیا
کبھی عزت تھی میری بھی زمانے میں
بس وہ میری شان ہی لے گیا
قسم ُاٹھا کر ساتھ نبھانے کی
وہ کیوں میرا ایمان ہی لے گیا
بسا لیا ُاس نے تو اپنا گھر لیکن
میرے گھر سے سارا سامان ہی لے گیا
شاید میری دعایئں جاتی نہیں خدا تک
وہ سارے لفظ سارے عنوان ہی لے گیا
اب کرتی گلہ تو آخر کس سے کرتی
وہ تو میرا مان ہی لے گیا
چل لکی چلیں کسی دور نگر
وہ تو سارے عہد و پیمان ہی لے گیا
کس کو اور کیسے بتاؤں میں کون ہوں ؟
وہ اپنے ساتھ میری پہچان ہی لے گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






