وہ اچانک مرے سامنے آ گئے
Poet: Fazlul Hasan By: F.H.Siddiqui, Lucknow(India) وہ اچانک مرے سامنے آ گئے
میں بھی شرما گیا وہ بھی شرما گئے
عشق تو عشق ہے ہونا تھا ہو گیا
وہ ہمیں بھا گئے ہم انھیں بھا گئے
بس گئی پیار کی خوشبو ہر سانس میں
گلشن دل کچھ اس طرح مہکا گئے
عشق میں پنہاں ہیں کنی باریکیاں
آنکھوں ہی آنکھوں میں ساری سمجھا گئے
دیکھ کر ان کو پھر ٹیس اٹھنے لگی
زخم دل ہم تو سمجھے تھے مرجھا گئے
موقع شکوؤں گلوں کا نہ آنے دیا
باتوں باتوں میں پھر ہم کو بہلا گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






