وہ ایک لڑکی لبوں پے جب سرخی لگاتی ھے
Poet: Zain ul Abidin By: Zain ul Abidin, Sadiqabadوہ ایک لڑکی لبوں پے جب سرخی لگاتی ھے
خزاں کے موسم میں بہار سی چھا جاتی ھے
ساگر سے بھی گہرے اسکے وہ کالے نین یارو
نظر جو اٹھائے وہ تو رات شرما جاتی ھے
وہ سانس لے تو سندل، زباں بولے تو الفاظ امر
شرما کے جو دیکھے تو دل بے چین کر جاتی ھے
لگ نہی سکتی ان موتیوں کی قیمت بازار میں
چپکے چپکے وہ جنکو انکھوں سے بہاتی ھے
ہیں رنگ اس میں کئ ہر پل ھیں جو بدلتے
تبسم سے اسکے قوس قزا پھیکی پڑ جاتی ھے
ننگے پاوں جب چلتی ھے وہ رم جھم سی بارش میں
زمیں اسکے پیروں سے سر سبزو شاداب ھو جاتی ھے
سنا ہے کٹھن ھے بہت اترنا اسکے دل میں زین
چلو قسمت ازماتے ہیں، اس کے دل میں جگہ بناتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






