وہ بھی کیا خوبصورت رات تھی۔۔۔۔۔۔۔۔١
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillزندگی حسن کی خیرات تھی
وہ بھی کیا خوبصورت رات تھی
دھڑکنوں کا ذرا ٹھہر جانا
ساعتوں کا ذرا مکر جانا
پھولوں کا جھوم جانا مستی میں
ندیا میں چاند کا اتر جانا
چاندنی کی حسین کرنوں میں
روپ کا اور بھی نکھر جانا
حسن کی ہر ادا اک ساتھ تھی
وہ بھی کیا خوبصورت رات تھی
پھول جیسے لبوں کا کھل جانا
چاند کا بادلوں سے مل جانا
شجر کی ٹہنیوں کی آہٹ سے
سہم کر تتلیوں کا ہل جانا
دیکھ کر آنکھ میں شرارت کو
پہلو سے دل کا وہ نکل جانا
چار سو خوشیوں کی بارات تھی
وہ بھی کیا خوبصورت رات تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






