وہ بھی کیا خوبصورت رات تھی۔۔۔۔۔۔۔٢
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillآسمانوں سے اترتی ہوئی پاگل کرنیں
زندگی کی نوید لے کے مہکتی سانسیں
کلی کلی سے نکلتی ہوئی مہک کا سفر
حصار وقت میں پھولوں کی ریشمی بانہیں
گماں کی حدیں توڑتا ہوا احساس وجود
رخ حیات پہ بکھری ہوئی ساحر زلفیں
حسن کے جلووں سے مخمور جنبش مژگاں
چاند تاروں سی چمکتی ہوئی روشن آنکھیں
مٹھی میں ساری کائنات تھی
وہ بھی کیا خوبصورت رات تھی
ہوا کا خوشبوؤں کے ساتھ وہ چلتے جانا
باغ جنت سے وہ جھرنوں کا اترتے جانا
جابجا رقص سے معمور نور کے ہالے
شمع کا روشنی پھیلا کے پگھلتے جانا
گلاب لمحوں کا وہ پھیلتا ہوا جادو
دل میں انجان دھڑکنوں کا مچلتے جانا
جگنوؤں کا دمکتے چاند کے جانا صدقے
چاندنی کا وہ دریچوں سے بکھرتے جانا
ماورا ماورا سا لگنا ساری ہستی کا
آئینے کا وہ حقیقت سے مکرتے جانا
ہر گھڑی زندگی کی بات تھی
وہ بھی کیا خوبصورت رات تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






