وہ بیکلی ہے کوئی راستہ سجھائی نہ دے
Poet: ثاقب By: ثاقب, Charsaddaوہ بیکلی ہے کوئی راستہ سجھائی نہ دے
وہ شور ہے کہ خود اپنی صدا سنائی نہ دے
میں کیا کروں گا بھلا جا کے اس بلندی پر
جہاں سے میرا ہی سایہ مجھے دکھائی نہ دے
جو مجھ کو درد کے اندھے کنویں میں پھینک آئے
مرے وجود کو وہ کرب آشنائی نہ دے
نہ جانے کون ہے مجھ میں جو ہر گھڑی مجھ کو
کوئی سجھاؤ سا دیتا رہے دکھائی نہ دے
جمیلؔ وقت سے آگے نکل گئے ہم لوگ
زمانہ اب ہمیں الزام نارسائی نہ دے
More Sad Poetry






