بھری محفل میں قصہ درد کا کیسے سناؤں گی

Poet: اسماعیل By: اسماعیل, Dadu

بھری محفل میں قصہ درد کا کیسے سناؤں گی
بہت روئی ہیں یہ آنکھیں نظر کیسے ملاؤں گی

تو سوچوں کی زمیں کے راستے تبدیل کر بیٹھا
میں عجلت میں نشان بندگی کیسے مٹاؤں گی

مری اس درد کی دنیا پہ مت کر سنگ باری تو
بھلا میں بے بسی کے زخم اب کیسے چھپاؤں گی

وہ ٹوٹا آئنہ دل کا تو میں نے روک لیں سانسیں
اٹھے گی درد سینے میں تو پھر کیسے بتاؤں گی

جدائی کی خلش پائی ملا مجھ کو وصال غم
انا کی جنگ جیتی بھی وفا کیسے نبھاؤں گی

چلے ہیں قافلے یادوں کے ویرانوں کی بستی میں
بنا تھا ہم سفر تو بھی تجھے کیسے بھلاؤں گی

بڑھیں ہیں وحشتیں موسم کی ایسے روگ بھی پالے
بہار آرزو کرنے دوبارہ کیسے آؤں گی

Rate it:
Views: 179
08 Oct, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL