وہ بے مثال ہی حسن و جمال رکھتا ہے
Poet: Fida Sherazi By: Fida Sherazi, islamabadوہ بے مثال ہی حسن و جمال رکھتا ہے
خزاں کی رُت کو مصیبت میں ڈال رکھتا ہے
چلے جو وہ نجومی بھی زائچے دیکھیں
زمین پر بھی ستاروں کی چال رکھتا ہے
وہ جس کا سامنا کرنے سے چاند گھبرائے
رُخِ نفیس پہ سورج سے گال رکھتا ہے
صبا بھی ساتھ سلیقے کے چھیڑتی ہے اُسے
وہ موسمِ گلِ لالہ کی فال رکھتا ہے
ہے اُس کی مست طبیعت وہ خوش سخن بھی تو ہے
جو لفظ لفظ سے گوہر نکال رکھتا ہے
گلوں کے رس پہ پلی تتلیاں بھی رشک کریں
وہ جب بھی شانوں پہ ریشم کی شال رکھتا ہے
وہ تیری روح کا مالک نہ تیرے جسم کا ہے
فدا تُو دھول بھی جس کی سنبھال رکھتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






