وہ تو چودھیوی رات کے چاند کی چاندی تھی
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaاک تمنا تھی دل میں
جو آنکھوں سے ظاہر ہوتی تھی
جو کبھی کبھی لفظوں میں ڈھل جاتی تھی
جو کبھی انکار کی صورت
کبھی اقرار کی صورت
پڑے پیار سے تجھ پے بکھر جاتی تھی
جب تم چلتے تھے ساحل کنارے پر
جو پڑ جاتے تھے
نشان تمہارے قدموں کے
وہ ُان پے دبے پاوں چل کر
تمہارے گھر تک جاتی تھی
جو تمہیں چھونے کی خاطر
ہوائوں سے لڑ جاتی تھی
وہ تو چودھیوی رات کے چاند کی چاندی تھی
جو ہر بار ہی اپنے چاند پے مر جاتی تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







