وہ تیرا ساتھ اور مہِ کامل کی چاندنی
Poet: hussain nisar By: hussain nisar, karachiدیواریں نفرتوں کی کھڑی ہیں جو راہ میں
مسمار ہم کریں گے انہیں تیری چاہ میں
وہ تیرا ساتھ اور مہِ کامل کی چاندنی
منظر بسا ہوا ہے وہ اب تک نگاہ میں
واعظ تیرا بیان کہ لرزا گیا وجود
پر کیا کریں کہ لطف عجب ہے گناہ میں
تھک تھک گیا ہوں دشتِ مسافت کی دوڑ میں
لے لو مجھے تم اپنی محبت پناہ میں
سب ذادِ راہ لوٹ کے رسوائی دے گیا
کتنی مروتیں ہیں مرے کجکلاہ میں
بھولا نہیں ہوں تیری محبت کی رفعتیں
یادیں بچھی ہوئی ہیں ہر اک گام راہ میں
اب غرقِ اضطراب ہے تیرے فراق سے
وہ جس کا تذکرہ تھا بہت مہر و ماہ میں
گزرا ہے سارا سال اس امید پر نثار
شاید وہ ملنے آئے دسمبر کے ماہ میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






