وہ جو عاشق بھی ہے شاعر بھی ندیم
Poet: NADEEM MURAD By: NADEEM MURAD, Karachiزندگی پیار کا ارماں ہوگا
موت تو حاصلِ ساماں ہوگا
دیکھنے میں رخِ شاداں ہوگا
دل مگر شہرِ خموشاں ہوگا
حال کب یونہی پریشاں ہوگا
درد دل میں کوئی پنہاں ہوگا
چاہے ہنستے ہی کیا ہو رخصت
ایک آنسو سر ِ مژگاں ہوگا
یہ پھٹا کپڑا جو ہے چار گرہ
یہ تو عاشق کا گریباں ہوگا
لاکھ ہوں دشت و بیاباں رہ میں
اس کا گھر روضئہ رضواں ہوگا
تجھ سے ملنا ہے یہ ہے عزم مگر
لرزہ ء عمرِ گریزاں ہوگا
اس کا بچنا ہے بہت ہی مشکل
زخمیئ ناوکِ مژگاں ہوگا
وہ جو عاشق بھی ہے شاعر بھی ندیم
وہ غزلخواں شبِ ہجراں ہوگا
اس کو ڈھونڈو تو سہی آج ندیم
وہ چراغ ِ تہِ داماں ہوگا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






