وہ خاص لوگ دعا و سلام سے بھی گئے
Poet: سید اظہر علی (اظہر) By: Syed Azhar Ali, Layyahوہ خاص لوگ دعا و سلام سے بھی گئے
جو نامہ بر تھے کتاب_ دوام سے بھی گئے
ہم ان کے سامنے اٹھے کہ نظر_خاص پڑے
بس اتنی بات تھی اورنظر_عام سےبھی گئے
جو چھوڑی ان کی غلامی تو ہم پہ بھید کھلا
آزاد بھی نہیں لطف_ غلام سے بھی گئے
وہ بت پرست جو اللہ کو دیکھنے نکلے
خدا بھی مل نہ سکا رام رام سے بھی گئے
کل ان کی بزم میں کیسے انا پرست تھے جو
رکوع کر نہ سک اور قیام سے بھی گئے
جنھوں نےمان کے زاہد کی پھینکی مئےاظہر
وہ رند ساقی_ کوثر کے جام سے بھی گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






