وہ خوشبو کا پیکر دکھا کر تو دیکھو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیایہ کیا سلسلہ ہےسنا کر تو دیکھو
وہ خوشبو کا پیکر دکھا کر تو دیکھو
زمیں پر بھی کوئی نہیں میرا اپنا
فضاؤں میں ہر سو اڑا کر تو دیکھو
فلک سے تہی دست آئی تھی لیکن
اندھیرا ہے دل کا جلا کر تو دیکھو
تو رہتا ہے خوابوں میں آنے سے قاصر
میں کیسے اسے یہ بتا کر تو دیکھو
وہ کیسے اٹھے پھر حقائق سے پردہ
ترے دل کو مارا دکھا کر تو دیکھو
مری روح کے اب بدن سے نکل کر
یہ میرا تخیل اڑا کر تو دیکھو
پرندہ ہے طوفانِ وحشت کی زد میں
مگر وہ پیار ا ہے بچا کر تو دیکھو
تجھے آج ملنے کی فرصت نہیں ہے
یہ وشمہ کو میں سجا کر تو دیکھو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






