وہ دن بھی جلد ہی آئے گا دیکھنا چشتی
Poet: ایم آر چشتی By: M R Chishti, MUZAFFARPURوہ دن بھی جلد ہی آئے گا دیکھنا چشتی
تجھے رلا کے میں ہو جاؤں گا جدا چشتی
نہ جانے کیوں اسے بھاتا نہیں مرا ہونا
نہیں ہے جس سے مرا کوئی واسطہ چشتی
وہ بات کیا ہے جو تم کو اداس رکھتی ہے
مجھے بتا ؤ میں ہمراز ہوں ترا چشتی
یہ میرا وعدہ ہے میں خود کو راکھ کر دوں گا
نہ مٹ سکے گا دلوں کا جو فاصلہ چشتی
کسی نے پوچھا کہ انسان کس کو کہتے ہیں
ترا ہی نام لیا میں نے بارہا چشتی
یہ بات اور کہ منکر ہیں اپنی ذات کے ہم
وہی جو تیرا خدا ہے وہی مرا چشتی
یہ میرا وعدہ ہے میں خود کو راکھ کر دوں گا
نہ مٹ سکے گا دلوں کا جو فاصلہ چشتی
وہ شخص تیرا نہیں تھا تو بھول جا اس کو
میں سر سے پاؤں تک تیرا ہوں بس ترا چشتی
میں یاد آؤں گا تجھ کو اداس راتوں میں
رکھے گا نام مرا پھر تو بے وفا چشتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






