وہ دیکھے گا بھی ادھر اور اشارا بھی ہوگا
Poet: Asad By: Asad, mpkدل کے دریا کا کوئی کنارا بھی ہوگا
ڈوبنے والے کے لیئے سہارا بھی ہوگا
ایک سے مسائل سے دوچار ہیں ھم تم
ایک ہی منزل ھے جب تو چارہ بھی ہوگا
کیوں لائیں ماتھے پر کوئی شکن اپنے
اگر دل ٹوٹا تو نقصان تمہارا بھی ہو گا
آج نہیں تو کل یہ ہو کر رہنا ھے کبھی
وہ دغا دے گا تمہیں جو پیارا بھی ہو گا
ھم یوں ہی کھڑے نہیں اسد سامنے انکے
وہ دیکھے گا بھی ادھر اور اشارا بھی ہوگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






