وہ سلگتی آنکھیں
Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, AL-Khobar K.S.Aوہ جگنو وہ ستارہ وہ چمکتی ہوئی آنکھیں
دل کے دریچے پہ وہ سلگتی ہوئی آنکھیں
رات بھر جو نیند سے لڑتی رہتیں ہیں
صبح کی چاندنی میں وہ بے کل ہوئی آنکھیں
نظر اٹھی تو اک سکوں سا منتظر پایا
دبیز پردوں سے وہ جھانکتی ہوئی آنکھیں
دروازہ کھول کے شب بھر بیٹھے رہے
گھر کی دہلیز پہ وہ جمی ہوئی آنکھیں
اب ناں چین اور ناں کوئی خواب آتا ہے
ہر اک آہٹ پے وہ جاگتی ہوئی آنکھیں
اک سرسراہٹ سی مجھ میں دوڑ جاتی ہے
جسم کے پیرھن پہ وہ سجی ہوئی آنکھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






