وہ شخص مفرور ھے اسکی سزا ھے باقی
Poet: ا ے ایس عار ف By: ا ے ایس عار ف, Mississaugaتشنہ لبی ھے اور سلسلہ وفا ھے باقی
بچھڑ ے صنم سےابھی اظہار مدعا ھے باقیf
غم فراق ھے غم دوراں یا غم حیات
دل حزیں کو یہ احساس نہ رھا ھے باقی
جرم کر کے کوئی کس طرح چھپ جائے
وہ شخص مفرور ھے اسکی سزا ھے باقی
تم نے دیکھی ھے صبر کی انتہاء میری
دل کے خانوں میں کہیں بد دعا ھے باقی
کرب اور سہنے کی نا رھی ھے سکت
دیکھئے اب تو رب کا اشارہ ھے باقی
میر ے دیار کو کس کی نظر لگی آخر
گلستاں میں سہمی ھوئی صبا ھے باقی
چلو مانگ کے ستاروں کو ڈھونڈھ کر لے آئیں
اس دلہن کے ھاتھوں میں ابھی حنا ھے باقی
اجاڑنے میں یہاں مشغول ھیں سبھی عارف
خواب و خیال کا ایک چمن رھ گیا ھے باقی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






