وہ شخص میرے خواب میں آیا تمام عمر
Poet: Ruqayyah Maalik By: Ruqaqyyah Maalik, lahoreوہ شخص میرے خواب میں آیا تمام عمر
اس خواب نے فریب میں رکھا تمام عمر
میرا نصیب ہجر کی برکھا سے تر ھوا
تیرے بعد بادلوں نے رلایا تمام عمر
اس کو محبتوں میں مزے ملے بڑے
ہم کو محبتوں نے ستایا تمام عمر
وہ ایک بار جا کر نہ آیا مگر اسے
فرصتوں سے بیٹھ کے سوچا تمام عمر
اک بار کھہ دیا کہ تو کچھ نہیں میرا
اس نے یہ پھر بیان نہ بدلا تمام عمر
اک بار عاشقی کا تجربہ ہوا تو پھر
یاروں کو ہم نے عشق سے روکا تمام عمر
اس پہ تو زندگی رہی مہرباں مگر
ہم پہ ستم حیات نے ڈھایا تمام عمر
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






