وہ شخص پھرمیرے رو برو تھا، میں قطرہ قطرہ پگھل رہا تھا
Poet: ایم آر چشتی By: غزل حیات, Biharوہ شخص پھرمیرے رو برو تھا، میں قطرہ قطرہ پگھل رہا تھا
عجیب وحشت سی چار سو تھی اک خوف آنکھوں میں پل رہا تھا
رفاقتوں کے یہ سلسلے بھی اداس راہوں پہ گامزن تھے
ہوا سرہانے کھڑی ہوئی تھی، چراغ کا دم نکل رہا تھا
نہ جانے کیوں آج ریگ جاں میں ہزار چشمے ابل رہے ہیں
سنا ہے کل رات اپنے بستر پہ کوئی کروٹ بدل رہا تھا
وہ میری پلکوں کا اک مسافر جو دامن مہرباں تک آیا
وہ داستاں تھا جو دل کے گوشے میں ایک عرصہ سے پل رہا تھا
کسی کی زلفوں کی قید سے جب مری وفا نے رہائی پائی
تو یوں لگا کہ حصار جاں سے کوئی دھواں سا نکل رہا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






