وہ صحرائے انا میں مسکرانا بھول جاتے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجو آنے والے کل کا بھی زمانہ بھول جاتے ہیں
وہ صحرائے انا میں مسکرانا بھول جاتے ہیں
یہ اس دورِ کشاکش نے تو یوں رکھا ہے ٹھوکر پر
کہانی سیل غم کی اب سنانا بھول جاتے ہیں
ترا دیدار حاصل ہے مگر ہجرت کے موسم میں
یوں جس منصب پہ فائز ہیں بتانا بھول جاتے ہیں
جو ذہن و دل میں زہریلی ہوا کے تیر چلتے ہیں
تری یادوں کے پتھر بھی اٹھانا بھول جاتے ہیں
انہیں غیروں کی بستی میں نہیں ملتی کبھی عزت
جو اپنے ملک و ملت کا ترانہ بھول جاتے ہیں
خزاں جب وار کرتی ہے شجر گرتے ہیں گلشن میں
پرندے ایسے میں سب آب و دانہ بھول جاتے ہیں
جو رہتے ہیں گھٹن کے دائروں میں ہی سدا وشمہ
حصارِ جسم سے باہر وہ آنا بھول جاتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







