وہ صورت گرد غم میں چھپ گئی ہو
Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIوہ صورت گرد غم میں چھپ گئی ہو
بہت ممکن یہ وہی آدمی ہو
میں ٹھہرا آبشار شہر پر فن
گھنے جنگل میں تم بہتی ندی ہو
بہت مصروف ہے انگشت نغمہ
مگر تم تو ابھی تک بانسری ہو
میری آنکھوں میں ریگستاں بسے ہیں
کوئی ایسے میں ساون کی جھڑی ہو
دیا جو بجھ چکا ہے پھر جلانا
بہت محسوس جب میری کمی ہو
یہ شب جیسے کوئی بے ماں کی بچی
اکیلے روتے روتے سو گئی ہو
وہ دریا میں نہانا چاندنی کا
کہ چاندنی جیسے گھل کے بہہ رہی ہو
کہانی کہنے والے کہہ رہے ہیں
مگر جانے وہی جس پر پڑی ہو
میاں! دیوان کا مت رعب ڈالو
پڑھو کوئی غزل جو واقعی ہو
غزل وہ مت سنانا ہم کو شاعر
جو بے حد محفلوں میں چل چکی ہو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






