گاؤں چھوڑا تو کئی آنکھوں میں کاجل پھیلا
Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIگاؤں چھوڑا تو کئی آنکھوں میں کاجل پھیلا
شہر پہنچا تو کسی ماتھے پہ جھومر جھوما
زندگی تو نے مجھے مار لیا تھا لیکن
یہ تو میں تھا جو تیرے زندوں سے بہتر ہی جیا
اب ملے ہم تو کئی لوگ بچھڑ جائیں گے
انتظار اور کرو اگلے جنم تک میرا
وہ تو انسان تھی تیری یاد کی محویت میں
درد و دیوار کو سینے سے لگا کر چوما
آج کی شام دوبارہ نہ کبھی آئے گی
آج کی شام نہ یہ سوچ کہ کل کیا ہو گا
دکھ بھرا پیار سمندر کی طرح لا محدود
غم زدہ حسنِ رواں پانی میں گھلتا سونا
میرے ہاتھوں سے چھوٹا تھا ایک آئینہ
عمر بھر جس کو میری آنکھوں نے پلکوں سے چنا
رات خاموشی دل چھا گئی جب دنیا پر
کوئی بولا تھا بہت پاس وہ تم تھے یا خُدا
خُوبصورت ہے بہت پیار کی خوش فہمی بھی
بند پلکوں کو تیرے ہو نٹوں نے جیسے چوما
کوئی آیا تھا نہیں تیز ہوا تھی شاید
میز و فرش پر بکھری ہوئی ہے لو لیتا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






