گاؤں چھوڑا تو کئی آنکھوں میں کاجل پھیلا

Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

گاؤں چھوڑا تو کئی آنکھوں میں کاجل پھیلا
شہر پہنچا تو کسی ماتھے پہ جھومر جھوما

زندگی تو نے مجھے مار لیا تھا لیکن
یہ تو میں تھا جو تیرے زندوں سے بہتر ہی جیا

اب ملے ہم تو کئی لوگ بچھڑ جائیں گے
انتظار اور کرو اگلے جنم تک میرا

وہ تو انسان تھی تیری یاد کی محویت میں
درد و دیوار کو سینے سے لگا کر چوما

آج کی شام دوبارہ نہ کبھی آئے گی
آج کی شام نہ یہ سوچ کہ کل کیا ہو گا

دکھ بھرا پیار سمندر کی طرح لا محدود
غم زدہ حسنِ رواں پانی میں گھلتا سونا

میرے ہاتھوں سے چھوٹا تھا ایک آئینہ
عمر بھر جس کو میری آنکھوں نے پلکوں سے چنا

رات خاموشی دل چھا گئی جب دنیا پر
کوئی بولا تھا بہت پاس وہ تم تھے یا خُدا

خُوبصورت ہے بہت پیار کی خوش فہمی بھی
بند پلکوں کو تیرے ہو نٹوں نے جیسے چوما

کوئی آیا تھا نہیں تیز ہوا تھی شاید
میز و فرش پر بکھری ہوئی ہے لو لیتا

Rate it:
Views: 775
09 Dec, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL